14 مارچ 2014 - 20:30
سعودی عرب کے بادشاہ نے اپنی ہی بیٹیوں کو قید کررکھا ہے

سعودی عرب میں کفار قریش کی جہالت و نادانی کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جہاں سعودی عرب کے بادشاہ نے اپنی ہی بیٹیوں کو قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کررکھا ہے اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ انھیں درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سعودی عرب کی متعدد شہزادیوں کی مدد کی التجا کی گئی ہے جو جدہ میں ایک عمارت میں قید ہیں۔

ابنا: سعودی عرب میں کفار قریش کی جہالت و نادانی کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جہاں سعودی عرب کے بادشاہ نے اپنی ہی بیٹیوں کو قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کررکھا ہے اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ انھیں درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سعودی عرب کی متعدد شہزادیوں کی مدد کی التجا کی گئی ہے جو جدہ میں  ایک عمارت میں قید ہیں۔جنیوا میں اقوام متحدہ نے بدھ کو ایسی درخواستوں کے موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر میں جمع کرائی جانے والی درخواستوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کی کئی بیٹیاں گذشتہ تیرہ برس سے جدہ میں ایک شاہی کمپاؤنڈ میں قید ہیں۔ ادھر سعودی عرب کےبادشاہ  شاہ عبداللہ کی ایک سابقہ اہلیہ نے کہا ہے کہ ان کی بیٹیاں جدہ میں قید کی زندگی گزار رہی ہیں اور انھیں آزدانہ گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سعودی شہزادیوں کے بارے میں بحث کا آغاز اقوام متحدہ کو بھیجی جانے والی ایک ای میل اور برطانیہ کے روزنامے سنڈے ٹائمز کی ایک خبر کے بعد ہوا تھا۔ خبر کے مطابق شاہ عبداللہ کی دو بیٹیوں ( بیالیس سالہ شہزادی سحر اور اڑتیس سالہ شہزادی جواہر) نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ دونوں اور ان کی کئی بہنیں گزشتہ تیرہ سال سے ایک شاہی کمپاؤنڈ میں قید کی زندگی گزار رہی ہیں ان میں اکثرغیر شادی شدہ شہزادیاں ہیں۔سنڈے ٹائمز کا مزید کہنا تھا کہ دونوں شہزادیوں کی لندن میں مقیم والدہ " جن کا نام انود الفائض ہے"  کی شاہ عبداللہ سے طلاق ہو چکی ہے اور انھوں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ ان کی بیٹیوں کی مدد کرے۔ اسلامی ذرائع کے مطابق سعودی عرب میں معاویہ اور یزید دور کے طرز کی ناما نہاد اسلامی حکومت قائم ہے جس کا کام صرف گلے کاٹنا اور خنجر چلانا ہے اور سعودی عرب کی حکومت کو کسی بھی لحاط اسلامی حکومت کہنا اسلام پر جفا کرنے کے برابر ہے۔ سعودی عرب میں جاری بیشتر قوانین کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں سعودی عرب عالمی سطح پر دہشت گردی کے فروغ اور اسلامی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے امریکہ کا تعاون کررہا ہے۔......./169